جمیل یوسف ۔۔۔ یہ مرے عشق کی شریعت ہے

یہ مرے عشق کی شریعت ہے
آپ کو دیکھنا عبادت ہے

خالقِ خشک و تر کا عاشق ہوں
ہر حسیں چیز سے محبت ہے

میں ہر انساں سے پیار کرتا ہوں
یہ ہی میرے نبیؐ کی سُنّت ہے

ہم فقیروں کے واسطے تیرا
سامنے آنا بھی سخاوت ہے

یہ جو میں ایسے شعر کہتا ہوں
یہ مرے عشق کی بدولت ہے

اے پری چہرہ! تجھ کو کیا معلوم
تیرے جلوئوں میں کیا اشارت ہے

اہلِ دنیا کو کیا بتائوں ، تُو
استعارہ ہے یا علامت ہے

آپ کو دیکھتے ہیں جیتے ہیں
زندگی آپ کی عنایت ہے

نقش تیرے پکارتے ہیں مجھے
تیری آواز ہے کہ صورت ہے

باقی مکر و فریب ہے سارا
اک ترا حُسن ہی حقیقت ہے

میری خوش بختی اور کیا ہو گی
سامنے میرے ، تیری صورت ہے

تیری ہر بات مانتا ہوں میں
میرے دل پر تری حکومت ہے

ہر گھڑی تیرا دھیان رہتا ہے
’’زندگی کتنی خوبصورت ہے‘‘

Related posts

Leave a Comment